لکھنؤ ،27؍ مارچ(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش اسمبلی نے منظم جرائم کو روکنے کے سخت شرائط والا ’یوپی کوکا بل‘آج منظور کردیا۔وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے پیش ہونے والے اس بل کو ایوان نے منظور کیا۔پہلے بھی اسمبلی نے یہ بل منظور کیا تھا لیکن قانون ساز کونسل میں یہ منظور نہیں ہو سکا تھا۔یوگی نے اس بل کو دوبارہ پیش کیا۔یوپی کوکا کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔یوگی نے اترپردیش منظم جرائم کنٹرول بل (یوپی کوکا)2017 پیش کرتے ہوئے کہاکہ منظم جرائم ایک ضلع یا ایک ریاست کا نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی موضوع بن گیا ہے۔(جرم کنٹرول کے لئے)جو کوشش ہماری حکومت نے کی ہے اس سے بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ان سب کے باوجود محسوس کیا جا رہا ہے کہ اتر پردیش جیسی ریاست میں جرائم پر مکمل کنٹرول کے لئے سخت قانون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جرائم کی نوعیت اور دائرہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ریاست میں منظم جرائم پر مؤثر کنٹرول کے لئے ایک قانون کی ضرورت بہت دن سے محسوس کی جا رہی تھی۔حکومت ریاست کے عوام کی حفاظت کے لئے مکمل عزم کے ساتھ کام کرے، اسی عزم کو پورا کرنے کے لئے ہم یہ بل لائے ہیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ اتر پردیش بڑی ریاست ہے۔مختلف ریاستوں سے ہماری حدود ملتی ہیں۔نیپال سے ہماری حدود ملتی ہیں۔یہ تمام حدود کھلی ہیں۔آج ایسے قانون کی ضرورت ہے جسمیں منظم جرائم میں ملوث عناصر پر سختی کرے اور عام عام لوگوں کو بغیر امتیاز کے تحفظ کی ضمانت دے سکے۔انہوں نے کہا کہ اس نقطہ نظر سے صوبہ میں گزشتہ ایک سال میں ایک اچھا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہوئی ہے جو کوشش ہماری حکومت نے کی ہے اس سے بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔یوگی نے کہا کہ یوپی کوکا کا غلط استعمال کوئی بھی نہیں کر سکتا۔اپوزیشن لیڈر رام گووند چودھری(ایس پی)نے کہا کہ ہر حکومت چاہتی ہے کہ اس کے راج میں قانون و نظام ٹھیک ہو۔عوام بھی یہی چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کی تقریر سے ظاہر ہوا کہ جرائم گھٹے ہیں۔جب قانون بہتر ہو گیا ہے تب اس قانون کو لانے کی ضرورت کیا ہے۔یہ جمہوریت اور آئین مخالف قانون ہے۔چودھری نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے وقت میں جرائم بڑھے ہیں۔یوپی کوکا پولیس کی جیب بھرنے والا قانون ہے۔بی ایس پی لیڈر لال جی ورما اور کانگریس کے اجے کمار للو نے بھی بل کی مخالفت کی۔